(Loading...)

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا میں خانماں خراب کئی بار مر گیا روتا رہا تو پوچھنے والا...

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا - زار - راحیلؔ فاروق

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا
میں خانماں خراب کئی بار مر گیا

روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا
جب ہنس دیا تو حلق میں نشتر اتر گیا

ندیاں کسی دیار کی یاد آ کے رہ گئیں
صحرا میں قطرہ قطرہ لبوں پر ٹھہر گیا

تسنیم و سلسبیل پہ تھا منتظر کوئی
میں کوچۂ مغاں سے بھی پیاسا گزر گیا

سقراطیوں کو دانشِ دوراں پہ ہنسنے دو
زہراب کا پیالہ بھی، سنتے ہیں بھر گیا

ناموسِ شعر کی کوئی میت کو پوچھنا
تہذیبِ غم تو اپنی سی راحیلؔ کر گیا

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے تجربے عہدِ محبت کے خداداد رہے رونقِ شہر سے آگے کوئی ...

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے - زار - راحیلؔ فاروق

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے
تجربے عہدِ محبت کے خداداد رہے

رونقِ شہر سے آگے کوئی ویرانہ تھا
اس میں کچھ لوگ رہے، خوش رہے، آباد رہے

ایک دنیا تھی جسے عشق سے عرفان ملا
ایک ہم ایسے کہ برباد تھے، برباد رہے

شہرِ یاراں میں عجب چھب تھی دلِ وحشی کی
جیسے کعبے میں کوئی بندۂ آزاد رہے

کسے یارا ہے محبت کے ستم سہنے کا؟
دل تو چاہے گا ہمیشہ یہی افتاد رہے

یا تو مل جائے مجھے شانۂ ہمدم راحیلؔ
ورنہ پھر دوشِ ہوا پر یہی فریاد رہے

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟ خواب ہی خواب ہیں...

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ - زار - راحیلؔ فاروق

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟
عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟
لائیں، پر خوبیِ تقدیر کہاں سے لائیں؟

مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے
دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟

کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے
ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟

کہیے، کچھ اس کے ٹھکانے کا پتا بھی تو چلے
کر کے راحیلؔ کو زنجیر کہاں سے لائیں؟

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا موسمِ گل سے کیا کما لوں گا؟ رنج بے سود ہے مگر یارب! تیری ...

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا - زار - راحیلؔ فاروق

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا
موسمِ گل سے کیا کما لوں گا؟

رنج بے سود ہے مگر یارب!
تیری دنیا سے اور کیا لوں گا؟

کون غارت گرِ تمنا ہے؟
کس ستم گر سے خوں بہا لوں گا؟

زندگی ہے تو ٹھیک ہے ہمدم
چار دن اور جی جلا لوں گا

کبھی کچھ دشمنوں کے باب میں، دوست!
جی میں ہو گا تو کہ بھی ڈالوں گا

والیِ شہر سو چکا راحیلؔ
میں بھی اب بوریا بچھا لوں گا

ہم کہاں؟ تم کہاں؟ وہ رات کہاں؟ ایسی بازی، پھر ایسی مات کہاں؟ نکہتِ دوش سر پٹخ تو گئی ...

ہم کہاں؟ تم کہاں؟ وہ رات کہاں؟ - زار - راحیلؔ فاروق

ہم کہاں؟ تم کہاں؟ وہ رات کہاں؟
ایسی بازی، پھر ایسی مات کہاں؟

نکہتِ دوش سر پٹخ تو گئی
اس قفس سے مگر نجات کہاں؟

ایک عالم ہے خود شناسی کا
دل لگی میں بھلا یہ بات کہاں؟

جستجو کس خلا میں چھوڑ گئی؟
کیا خبر، ہے مقامِ ذات کہاں؟

شاعری میں امید کیا مطلب؟
دہر میں لذتِ ثبات کہاں؟

صبح سے کیا قمر گزیدوں کو؟
دن چڑھے ایسی واردات کہاں؟

اب تو جینا کمال ہے راحیلؔ
اب غزل، سیمیا، نکات کہاں؟

سبقِ اولیں نہیں بھولا کچھ نہ سمجھا، کہیں نہیں بھولا راستے منزلوں کو بھول گئے میں رخِ ہم ...

سبقِ اولیں نہیں بھولا - زار - راحیلؔ فاروق
سبقِ اولیں نہیں بھولا
کچھ نہ سمجھا، کہیں نہیں بھولا

راستے منزلوں کو بھول گئے
میں رخِ ہم نشیں نہیں بھولا

میں نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
داستاں گو وہیں نہیں بھولا

چند آہیں خلا میں لرزاں ہیں
انھیں عرشِ بریں نہیں بھولا

خاص باتوں کا دکھ زیادہ ہے
ورنہ جو عام تھیں، نہیں بھولا

مجھے سب کچھ ہی یاد ہے راحیلؔ
نہیں بھولا، نہیں، نہیں بھولا