(Loading...)

بت پرستوں میں خدا مستی ہے درد مہنگا ہے، دعا سستی ہے شہرِ یاراں میں کوئی عام نہیں ایک سے ایک بڑی ہستی ہے جنتِ عشق بھی گھ...

بت پرستوں میں خدا مستی ہے - زار - راحیلؔ فاروق

بت پرستوں میں خدا مستی ہے
درد مہنگا ہے، دعا سستی ہے

شہرِ یاراں میں کوئی عام نہیں
ایک سے ایک بڑی ہستی ہے

جنتِ عشق بھی گھوم آیا ہوں
سربلندوں کے لیے پستی ہے

موت بے وقت نہ آئے گی تو کیوں
روز آنے پہ کمر کستی ہے؟

ہمی راحیلؔ ہوئے خانہ خراب
آج بھی اس کی گلی بستی ہے

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی گیا ہے، توسنِ غم پر سوار تھا کوئی فقیہِ شہر پھر آج ایک بت پہ چڑھ دوڑا کسی غریب کا پروردگار ...

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی - زار - راحیلؔ فاروق

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی
گیا ہے، توسنِ غم پر سوار تھا کوئی

فقیہِ شہر پھر آج ایک بت پہ چڑھ دوڑا
کسی غریب کا پروردگار تھا کوئی

بہت مذاق اڑاتا رہا محبت کا
ستم ظریف کے بھی دل پہ بار تھا کوئی

رہا لطائفِ غیبی کے دم قدم سے بسا
دیارِ عشق عجب ہی دیار تھا کوئی

نصیب حضرتِ انساں کا تھا وہی راحیلؔ
کسی کی گھات میں تھا، ہوشیار تھا کوئی

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست تو نے آنے میں دیر کر دی دوست چاک سا ہو رہا ہے سینۂِ  شب کس قدر بڑھ گئی ہے سردی دوست تھے نہ د...

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست - زار - راحیلؔ فاروق

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست
تو نے آنے میں دیر کر دی دوست

چاک سا ہو رہا ہے سینۂِ  شب
کس قدر بڑھ گئی ہے سردی دوست

تھے نہ دشوار فیصلے ایسے
تو نے مہلت ہی لمحہ بھر دی دوست

میں بتاتا ہوں کون ہے مجرم
وہ رہا چرخِ لاجوردی دوست

تا بہ ملکِ فنا رسد راحیلؔ
تو بیابان می نوردی دوست

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا جستجو دشت میں سرگرداں تھی جانِ عالم کسی محفل میں تھا آج پ...

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا - زار - راحیلؔ فاروق

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا
وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا

جستجو دشت میں سرگرداں تھی
جانِ عالم کسی محفل میں تھا

آج پہنچا ہے گریبان پہ ہاتھ
کل ابھی دامنِ سائل میں تھا

اوس پڑ جائے نہ ارمانوں پر
کچھ نیا تارے کی جھلمل میں تھا

لے اڑی دل کو خلش پھر کوئی
میں ابھی لذتِ حاصل میں تھا

تو نے اے دوست! زمانہ دیکھا
کچھ نیا بھی کسی بسمل میں تھا؟

ایک دعویٰ تو ہمیں تھا راحیلؔ
ایک سودا سرِ قاتل میں تھا

شہر میں شور مچ گیا ہو گا ورنہ بولا تو سچ گیا ہو گا میں بھی حرفِ غلط ہی تھا کوئی لکھتے لکھتے کھرچ گیا ہو گا اُس میں ایسا ہے...

شہر میں شور مچ گیا ہو گا - زار - راحیلؔ فاروق

شہر میں شور مچ گیا ہو گا
ورنہ بولا تو سچ گیا ہو گا

میں بھی حرفِ غلط ہی تھا کوئی
لکھتے لکھتے کھرچ گیا ہو گا

اُس میں ایسا ہے خاص کیا اے دل؟
تیری آنکھوں میں جچ گیا ہو گا

خوار گلشن میں ہو گا جو کوئی
خوشبوؤں میں نہ رچ گیا ہو گا؟

کوئی کوئی کہیں کہیں راحیلؔ
ہو گا، قسمت سے بچ گیا ہو گا

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے ہم چلے ...

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال - زار - راحیلؔ فاروق

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال

ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟

یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال

اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال

بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال