(Loading...)

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست تو نے آنے میں دیر کر دی دوست چاک سا ہو رہا ہے سینۂِ  شب کس قدر بڑھ گئی ہے سردی دوست تھے نہ د...

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست - زار - راحیلؔ فاروق

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست
تو نے آنے میں دیر کر دی دوست

چاک سا ہو رہا ہے سینۂِ  شب
کس قدر بڑھ گئی ہے سردی دوست

تھے نہ دشوار فیصلے ایسے
تو نے مہلت ہی لمحہ بھر دی دوست

میں بتاتا ہوں کون ہے مجرم
وہ رہا چرخِ لاجوردی دوست

تا بہ ملکِ فنا رسد راحیلؔ
تو بیابان می نوردی دوست

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا جستجو دشت میں سرگرداں تھی جانِ عالم کسی محفل میں تھا آج پ...

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا - زار - راحیلؔ فاروق

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا
وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا

جستجو دشت میں سرگرداں تھی
جانِ عالم کسی محفل میں تھا

آج پہنچا ہے گریبان پہ ہاتھ
کل ابھی دامنِ سائل میں تھا

اوس پڑ جائے نہ ارمانوں پر
کچھ نیا تارے کی جھلمل میں تھا

لے اڑی دل کو خلش پھر کوئی
میں ابھی لذتِ حاصل میں تھا

تو نے اے دوست! زمانہ دیکھا
کچھ نیا بھی کسی بسمل میں تھا؟

ایک دعویٰ تو ہمیں تھا راحیلؔ
ایک سودا سرِ قاتل میں تھا

شہر میں شور مچ گیا ہو گا ورنہ بولا تو سچ گیا ہو گا میں بھی حرفِ غلط ہی تھا کوئی لکھتے لکھتے کھرچ گیا ہو گا اُس میں ایسا ہے...

شہر میں شور مچ گیا ہو گا - زار - راحیلؔ فاروق

شہر میں شور مچ گیا ہو گا
ورنہ بولا تو سچ گیا ہو گا

میں بھی حرفِ غلط ہی تھا کوئی
لکھتے لکھتے کھرچ گیا ہو گا

اُس میں ایسا ہے خاص کیا اے دل؟
تیری آنکھوں میں جچ گیا ہو گا

خوار گلشن میں ہو گا جو کوئی
خوشبوؤں میں نہ رچ گیا ہو گا؟

کوئی کوئی کہیں کہیں راحیلؔ
ہو گا، قسمت سے بچ گیا ہو گا

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے ہم چلے ...

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال - زار - راحیلؔ فاروق

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال

ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟

یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال

اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال

بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں ایک دھوکا جسے توفیقِ عمل کہتے ہیں اپنے بھی نام قیامت کے ہیں نامے سارے ایک وہ ہے جسے پیغام...

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں - زار - راحیلؔ فاروق

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں
ایک دھوکا جسے توفیقِ عمل کہتے ہیں

اپنے بھی نام قیامت کے ہیں نامے سارے
ایک وہ ہے جسے پیغامِ اجل کہتے ہیں

کئی فرزانے تھے، کہتے رہے صورت پہ غزل
کئی دیوانے ہیں، صورت کو غزل کہتے ہیں

تجھے عالم پہ حکومت ہو مبارک لیکن
جانِ عالم! اسے لمحوں کا محل کہتے ہیں

بند آنکھیں کیے تم چل تو پڑے ہو راحیلؔ
ایسی راہوں میں ہوا کرتے ہیں بل، کہتے ہیں

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا میں خانماں خراب کئی بار مر گیا روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا جب ہنس دیا تو حلق میں نشت...

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا - زار - راحیلؔ فاروق

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا
میں خانماں خراب کئی بار مر گیا

روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا
جب ہنس دیا تو حلق میں نشتر اتر گیا

ندیاں کسی دیار کی یاد آ کے رہ گئیں
صحرا میں قطرہ قطرہ لبوں پر ٹھہر گیا

تسنیم و سلسبیل پہ تھا منتظر کوئی
میں کوچۂ مغاں سے بھی پیاسا گزر گیا

سقراطیوں کو دانشِ دوراں پہ ہنسنے دو
زہراب کا پیالہ بھی، سنتے ہیں بھر گیا

ناموسِ شعر کی کوئی میت کو پوچھنا
تہذیبِ غم تو اپنی سی راحیلؔ کر گیا