(Loading...)

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے ہم چلے ...

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال - زار - راحیلؔ فاروق

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال

ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟

یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال

اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال

بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں ایک دھوکا جسے توفیقِ عمل کہتے ہیں اپنے بھی نام قیامت کے ہیں نامے سارے ایک وہ ہے جسے پیغام...

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں - زار - راحیلؔ فاروق

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں
ایک دھوکا جسے توفیقِ عمل کہتے ہیں

اپنے بھی نام قیامت کے ہیں نامے سارے
ایک وہ ہے جسے پیغامِ اجل کہتے ہیں

کئی فرزانے تھے، کہتے رہے صورت پہ غزل
کئی دیوانے ہیں، صورت کو غزل کہتے ہیں

تجھے عالم پہ حکومت ہو مبارک لیکن
جانِ عالم! اسے لمحوں کا محل کہتے ہیں

بند آنکھیں کیے تم چل تو پڑے ہو راحیلؔ
ایسی راہوں میں ہوا کرتے ہیں بل، کہتے ہیں

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا میں خانماں خراب کئی بار مر گیا روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا جب ہنس دیا تو حلق میں نشت...

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا - زار - راحیلؔ فاروق

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا
میں خانماں خراب کئی بار مر گیا

روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا
جب ہنس دیا تو حلق میں نشتر اتر گیا

ندیاں کسی دیار کی یاد آ کے رہ گئیں
صحرا میں قطرہ قطرہ لبوں پر ٹھہر گیا

تسنیم و سلسبیل پہ تھا منتظر کوئی
میں کوچۂ مغاں سے بھی پیاسا گزر گیا

سقراطیوں کو دانشِ دوراں پہ ہنسنے دو
زہراب کا پیالہ بھی، سنتے ہیں بھر گیا

ناموسِ شعر کی کوئی میت کو پوچھنا
تہذیبِ غم تو اپنی سی راحیلؔ کر گیا

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے تجربے عہدِ محبت کے خداداد رہے رونقِ شہر سے آگے کوئی ویرانہ تھا اس میں کچھ لوگ رہے، خوش رہے...

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے - زار - راحیلؔ فاروق

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے
تجربے عہدِ محبت کے خداداد رہے

رونقِ شہر سے آگے کوئی ویرانہ تھا
اس میں کچھ لوگ رہے، خوش رہے، آباد رہے

ایک دنیا تھی جسے عشق سے عرفان ملا
ایک ہم ایسے کہ برباد تھے، برباد رہے

شہرِ یاراں میں عجب چھب تھی دلِ وحشی کی
جیسے کعبے میں کوئی بندۂ آزاد رہے

کسے یارا ہے محبت کے ستم سہنے کا؟
دل تو چاہے گا ہمیشہ یہی افتاد رہے

یا تو مل جائے مجھے شانۂ ہمدم راحیلؔ
ورنہ پھر دوشِ ہوا پر یہی فریاد رہے

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟ خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟ لائیں، پر خوبئِ...

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ - زار - راحیلؔ فاروق

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟
عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟
لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟

مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے
دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟

کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے
ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟

کہیے، کچھ اس کے ٹھکانے کا پتا بھی تو چلے
کر کے راحیلؔ کو زنجیر کہاں سے لائیں؟

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا موسمِ گل سے کیا کما لوں گا؟ رنج بے سود ہے مگر یارب! تیری دنیا سے اور کیا لوں گا؟ کون غارت گرِ...

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا - زار - راحیلؔ فاروق

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا
موسمِ گل سے کیا کما لوں گا؟

رنج بے سود ہے مگر یارب!
تیری دنیا سے اور کیا لوں گا؟

کون غارت گرِ تمنا ہے؟
کس ستم گر سے خوں بہا لوں گا؟

زندگی ہے تو ٹھیک ہے ہمدم
چار دن اور جی جلا لوں گا

کبھی کچھ دشمنوں کے باب میں، دوست!
جی میں ہو گا تو کہ بھی ڈالوں گا

والیِ شہر سو چکا راحیلؔ
میں بھی اب بوریا بچھا لوں گا