زار میں سے اپنی پسندیدہ غزلیں تلاش کیجیے!

بنوں میں شہرۂ انصاف و عدل جب پہنچا کوئی نڈھال کسی شہر بستہ لب پہنچا کوئی خبر نہ ہوئی گردِ راہ کو صدیوں شعورِ ذات کی منزل پہ ک...

بنوں میں شہرۂ انصاف و عدل جب پہنچا

بنوں میں شہرۂ انصاف و عدل جب پہنچا - زار - راحیلؔ فاروق

بنوں میں شہرۂ انصاف و عدل جب پہنچا
کوئی نڈھال کسی شہر بستہ لب پہنچا

کوئی خبر نہ ہوئی گردِ راہ کو صدیوں
شعورِ ذات کی منزل پہ کون کب پہنچا؟

تمھارے ہجر میں بیتیں جو حالتیں مجھ پر
فنا کی راہ سے مجھ تک غزل کا ڈھب پہنچا

کمالِ حسن کا مدت سے تھا شعور مجھے
جنونِ عشق پہ تو بے نیاز اب پہنچا

رسومِ کہنہ کے لاشے تڑپ تڑپ اٹھے
مزارِ عصر پہ یہ کون بے ادب پہنچا؟

نہ گفتگو، نہ مداوائے غم، نہ دل داری
جنابِ دوست میں راحیلؔ بے سبب پہنچا

0 تبصرے :