زار میں سے اپنی پسندیدہ غزلیں تلاش کیجیے!

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ سوچا کہ...

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں - راحیلؔ فاروق - زار

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں

ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں

کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں

ویرانیِ منزل کا افسانہ ہی کہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں

میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟

0 تبصرے :