زار میں سے اپنی پسندیدہ غزلیں تلاش کیجیے!

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے یہ مقدر بھی کیا مقدر ہے شاعرانہ سی بات ہے لیکن حسن آبِ بقا سے بڑھ کر ہے منزلیں تیرہ، تیرہ تر...

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے - زار - راحیلؔ فاروق

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے
یہ مقدر بھی کیا مقدر ہے

شاعرانہ سی بات ہے لیکن
حسن آبِ بقا سے بڑھ کر ہے

منزلیں تیرہ، تیرہ تر راہیں
کون جانے کوئی کہاں پر ہے

دیکھ، حسنِ طلب کی بات نہ کر
شہر میں ایک ہی گداگر ہے

ایک جھونکے کے فیض سے رستہ
برزخِ عشق تک معطر ہے

مجھ میں دو شخص جیتے ہیں راحیلؔ
ایک ناظر ہے، ایک منظر ہے

0 تبصرے :