زار میں سے اپنی پسندیدہ غزلیں تلاش کیجیے!

منزلوں کا سراغ تھا پہلے جو دھواں ہے، چراغ تھا پہلے تو بھی عالی دماغ ہے شاید میں بھی عالی دماغ تھا پہلے تھے عنادل بھی، لالہ...

منزلوں کا سراغ تھا پہلے

منزلوں کا سراغ تھا پہلے - زار - راحیلؔ فاروق

منزلوں کا سراغ تھا پہلے
جو دھواں ہے، چراغ تھا پہلے

تو بھی عالی دماغ ہے شاید
میں بھی عالی دماغ تھا پہلے

تھے عنادل بھی، لالہ و گل بھی
جب یہاں ایک باغ تھا پہلے

متعلق رہا ہوں دنیا سے
اس قدر بھی فراغ تھا پہلے

اب غزل کی متاع ہے راحیلؔ
میرے سینے کا داغ تھا پہلے

1 تبصرہ :

  1. منزلوں کا سراغ تھا پہلے :: جو دھواں ھے چراغ تھا پہلے
    واہ ۔۔۔۔ تازہ کلام سننا چاہتا ہوں @naeemzarrar

    جواب دیںحذف کریں