غزلیات

جنوں نے تجھے ماورا کر دیا

جنوں نے تجھے ماورا کر دیا
نہ دیکھا، نہ سمجھا، خدا کر دیا

خموشی کی سل جس نے توڑی، سلام!
صدا کو تقدس عطا کر دیا

یہ جو عشق ہم نے کیا، دوستو
بھلا کر گئے یا برا کر دیا؟

کسی دوست کا قرض ہے زندگی
دیا اور طوفان اٹھا کر دیا

ازل سے ہے دستورِ عالم یہی
روا کہ دیا، نا روا کر دیا

متاعِ دل و جاں تھی راحیلؔ ہیچ
اُسی نے اِسے بے بہا کر دیا

کسے خبر تھی یہ تیور ہنر کے نکلیں گے

کسے خبر تھی یہ تیور ہنر کے نکلیں گے
ہمی پہ قرض ہمارے جگر کے نکلیں گے

مچل رہے ہیں جو ارمان ایک مدت سے
ستم ظریف گنہگار کر کے نکلیں گے

گراں ہے نرخ بہت نعرۂ انالحق کا
گلی گلی سے خریدار سر کے نکلیں گے

اصولِ عشق میں گویا یہ بات شامل ہے
اِدھر سے ہو کے دَلِدّر اُدھر کے نکلیں گے

غبارِ خاطر و گردِ سفر کو بیٹھنے دو
ہم انتظار کریں گے، ٹھہر کے نکلیں گے

ہوئے ہیں عشق میں راحیلؔ خانماں برباد
کہیں سنیں گے تو بھیدی بھی گھر کے نکلیں گے

گم ہے محفل، فسانہ بھی گم ہے

گم ہے محفل، فسانہ بھی گم ہے
میں بھی چپ ہوں، زمانہ بھی گم ہے

عشرتِ خلد سے گئے، سو گئے
اب وہ گندم کا دانہ بھی گم ہے

آج طوفان کی شنید بھی تھی
اور وہ زانو، وہ شانہ بھی گم ہے

متغزل کے ہوش ہی نہیں گم
لغتِ شاعرانہ بھی گم ہے

باد و باراں کا زور ہے راحیلؔ
ہے خبر، آشیانہ بھی گم ہے

ایک نادیدہ اداسی سی کہیں ہے جیسے

ایک نادیدہ اداسی سی کہیں ہے جیسے
حسن عالم میں کہیں اور نہیں ہے جیسے

تیری یادوں میں ہوا پھر وہی آفت کا گمان
کوئی اقلیمِ غزل زیرِ نگیں ہے جیسے

لوگ بھی جیسے کسی حشر کے عالم میں ہیں
منصفِ وقت بھی کچھ چیں بجبیں ہے جیسے

ایک مَکّہ ہے تصور کا، جہاں ہر تعمیر
یوں دمکتی ہے کہ فردوسِ زمیں ہے جیسے

اپنی تدبیر کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں خاموش
ثبت ہر اینٹ پہ افلاسِ مکیں ہے جیسے

اجنبی شہر میں اسباب گنوا کر راحیلؔ
لوٹ آیا ہے، مگر اب بھی وہیں ہے جیسے

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں

ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں

کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں

ویرانیِ منزل کا افسانہ ہی کہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں

میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟