غزلیات

دل زدہ شہر میں جب آئے گا

دل زدہ شہر میں جب آئے گا
جاں بلب، مہر بلب آئے گا

لو، مہکتی ہوئی یادیں آئیں
وہ تو جب آئے گا، تب آئے گا

صبحِ امروز ہوئی ہی ہو گی
یاد پھر وعدۂ شب آئے گا

کس قدر زود پشیمان ہے تو؟
تجھ پہ الزام ہی کب آئے گا؟

ابھی افکار میں ہیں رنگ بھرے
ابھی گفتار کا ڈھب آئے گا

ہم بھی صحرا کو چلے ہیں راحیلؔ
ہجر کا لطف تو اب آئے گا

لوگ تنہا ہوئے، مجھ سا کوئی تنہا نہ ہوا

لوگ تنہا ہوئے، مجھ سا کوئی تنہا نہ ہوا
بھری دنیا میں جیا اور گزارا نہ ہوا

دل کی دل ہی میں لیے وہ بھی گیا میری طرح
مجھ سے کچھ بھی نہ ہوا، اس سے بھی اتنا نہ ہوا؟

کس نے بیچی ہے انا چند نگاہوں کے عوض
کس سے پوچھوں مجھے کیوں صبر کا یارا نہ ہوا؟

ارے یہ تشنگیِ عشق تو ہے ہی بدنام!
کون مانے گا کہ وہ حسن بھی دریا نہ ہوا؟

خود میں وہ شخص زمانے کو لیے پھرتا تھا
گاہ دیوانہ بنا، گاہ شناسا نہ ہوا

بخدا حسرتِ دیدارِ مسیحا کے سوا
تیری محفل میں کسی دکھ کا مداوا نہ ہوا

دل خریدار کے ہاتھوں کی لکیروں میں تھا
ورنہ ایسا کبھی سستا کوئی سودا نہ ہوا

ہوسِ حسن کو راحیلؔ دعا دیتا ہوں
دل کہیں کا نہ رہا، پھر بھی کسی کا نہ ہوا

آپ کو آپ ملامت کی ہے

آپ کو آپ ملامت کی ہے
عشق ہے، بات بھی غیرت کی ہے!

پھر سے زندہ ہوئے لیلیٰ مجنوں
شہر میں دھوم حکایت کی ہے

اے مجھے صبر سکھانے والے
کیا کبھی تو نے محبت کی ہے؟

دیکھتا دل کی یہ حالت کوئی
کرنے والے نے قیامت کی ہے

چار دن آئے عدو پر اچھے
چار دن ہم نے مروت کی ہے

کچھ ہمارا بھی تو حق تھا راحیلؔ
آخرِ کار شکایت کی ہے

جو کیا سو بصد ملال کیا

جو کیا سو بصد ملال کیا
عشق آسان تھا، محال کیا

ہم نے سو بار مرتبہ کھویا
دل نے سو مرتبہ بحال کیا

میرے منعم بھی سوچتے ہوں گے
کہ بھکاری نے کیا سوال کیا

پوچھ مت آخری سواروں سے
راستہ کس نے پائمال کیا؟

کعبۂ دل میں خون ریزی کو
عشق نے حسن پر حلال کیا

مرنے والے تو مر گئے راحیلؔ
جینے والوں نے کیا کمال کیا؟

صید ہے اپنی ذات میاں

صید ہے اپنی ذات میاں
کون لگائے گھات میاں؟

بھول گیا میں اپنا آپ
غم کی کیا اوقات میاں؟

دن کا ہر کوئی محرم ہے
رات کی بھیدی رات میاں

دل کے پوچھتے ہو حالات
دل کے کیا حالات میاں؟

گلشن گلشن ویرانے
پھول نہ کوئی پات میاں

ایک گھٹا بھی کم تو نہ تھی
کیوں نہ ہوئی برسات میاں؟

کون کہے اور کون سنے؟
اتنی گہری بات میاں؟

ٹھوکر کھائی پھر راحیلؔ
دنیا کی سوغات میاں