شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے
یہ مقدر بھی کیا مقدر ہے

شاعرانہ سی بات ہے لیکن
حسن آبِ بقا سے بڑھ کر ہے

منزلیں تیرہ، تیرہ تر راہیں
کون جانے کوئی کہاں پر ہے

دیکھ، حسنِ طلب کی بات نہ کر
شہر میں ایک ہی گداگر ہے

ایک جھونکے کے فیض سے رستہ
برزخِ عشق تک معطر ہے

مجھ میں دو شخص جیتے ہیں راحیلؔ
ایک ناظر ہے، ایک منظر ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے