دل سے کوئی خطا نہ ہو جائے

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

دل سے کوئی خطا نہ ہو جائے
کچھ زیادہ برا نہ ہو جائے

عشق منزل سرائے حیرت ہے
کہیں پھر کچھ نیا نہ ہو جائے

جس پہ نازاں ہے شمعِ دورِ نوی
وہ شرارہ فنا نہ ہو جائے

اس چکا چوند روشنی میں کہیں
چشمِ امکان وا نہ ہو جائے

یہ جو رہ رہ کے ٹیس اٹھتی ہے
دل کی دھڑکن بلا نہ ہو جائے

انتہا کو پہنچ نہ جائے عجز
بندہ پرور خدا نہ ہو جائے

عدل کی آرزو تو ہے لیکن
زندہ رہنا سزا نہ ہو جائے

بزم ہنس ہنس کے تھکتی جاتی ہے
ماتمی سی فضا نہ ہو جائے

پردے سارے اٹھا تو دوں راحیلؔ
یہ مزا کرکرا نہ ہو جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے