ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟
کچھ نہ کرنے کے سوا ہم نے کیا ہی کیا ہے؟

آ، تجھے سلطنتِ دل کی ذرا سیر کراؤں
تجھے معلوم نہیں ہے کہ تباہی کیا ہے؟

حال یہ ہے کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے اگر
تیری یادوں کے سوا گھر میں رہا ہی کیا ہے؟

بڑی سادہ سی محبت کا گنہگار ہوں میں
یہی معلوم نہیں تھا کہ ہوا ہی کیا ہے؟

کچھ نہ دے پاؤں تو شرمندہ نہیں ہوں راحیلؔ
اس زمانے سے بھلا میں نے لیا ہی کیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے