وہ جو دیکھا گیا، سنا نہ گیا

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

وہ جو دیکھا گیا، سنا نہ گیا
ہائے وہ وقت، وہ زمانہ گیا

رونے والے تو رو رہے تھے حضور
ہنسنے والوں سے کیوں ہنسا نہ گیا؟

غلطی دل کی تھی، مگر دل تھا
ہم سے یہ عذر بھی کیا نہ گیا

کس گلی میں ہوں رہ نشیں یا رب!
کون گزرا کہ دیکھتا نہ گیا؟

عام سا تھا مرض، مگر درمان
جس قدر بھی کیا گیا، نہ گیا

کیا نصیحت نہ کی گئی راحیلؔ؟
ہمی نادان تھے، رہا نہ گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے