منزلوں کا سراغ تھا پہلے

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

منزلوں کا سراغ تھا پہلے
جو دھواں ہے، چراغ تھا پہلے

تو بھی عالی دماغ ہے شاید
میں بھی عالی دماغ تھا پہلے

تھے عنادل بھی، لالہ و گل بھی
جب یہاں ایک باغ تھا پہلے

متعلق رہا ہوں دنیا سے
اس قدر بھی فراغ تھا پہلے

اب غزل کی متاع ہے راحیلؔ
میرے سینے کا داغ تھا پہلے

“منزلوں کا سراغ تھا پہلے” پر ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے