تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟
عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟
لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟

مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے
دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟

کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے
ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟

کہیے، کچھ اس کے ٹھکانے کا پتا بھی تو چلے
کر کے راحیلؔ کو زنجیر کہاں سے لائیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے