رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال

ہو گئی مات بھی اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟

یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال

اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال

بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے