مصحف مصحف ورق ورق تھا

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

مصحف مصحف ورق ورق تھا
ہر ایک سبق نیا سبق تھا

یہ کون تھے درس لینے والے؟
میرِ مکتب کا رنگ فق تھا

تھا، اے میرے خدا، کہاں تو؟
جب میں محوِ صدائے حق تھا

قاتل کے انتظار میں شب
تھیں آنکھیں بند، سینہ شق تھا

اجڑے ہوئے شہر دیکھتے تھے
بنجاروں کو کوئی قلق تھا

میرا صلہ اور ہو گا راحیلؔ
ِمیں کشتۂ شرّما خلق تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے