جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا
ریختہ دل ہے، اور بکھرتا جائے گا

جھوٹ نبھانے اس کے بس کا روگ نہیں
دیکھے بن ہی باتیں کرتا جائے گا

اس سے پوچھو جو ساقی کہلاتا ہے
میرا خالی جام نہ بھرتا جائے گا؟

اپنی دھول تو پہنچے گی منزل کو مگر
کون کہے، تب کیسے برتا جائے گا؟

پوج رہا ہے مرتے ماضی کو راحیلؔ
خود بھی رفتہ رفتہ مرتا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے