زندگی زندگی کے درپے ہے

زار - راحیلؔ فاروق کی اردو شاعری کی کتاب

زندگی زندگی کے درپے ہے
اپنے زندوں کو دیکھنا، ہے ہے!

چیز خاصے کی عشق بھی ہے مگر
حسن کیسی کمال کی شے ہے!

ہجر میں آئے، وصل میں آئے
موت آئے گی، اس قدر طے ہے

اپنی تقدیر ہی نہیں ورنہ
دل ہے، ساقی ہے، جام ہے، مے ہے

جام ہائے شکستہ ہیں ہم لوگ
زندگی دیوتاؤں کی قے ہے

تھے تو گریاں ازل سے ہم راحیلؔ
ان دنوں کچھ بلند تر لے ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے