زندگی زندگی کے درپے ہے

زندگی زندگی کے درپے ہے
اپنے زندوں کو دیکھنا، ہے ہے!

چیز خاصے کی عشق بھی ہے مگر
حسن کیسی کمال کی شے ہے!

ہجر میں آئے، وصل میں آئے
موت آئے گی، اس قدر طے ہے

اپنی تقدیر ہی نہیں ورنہ
دل ہے، ساقی ہے، جام ہے، مے ہے

جام ہائے شکستہ ہیں ہم لوگ
زندگی دیوتاؤں کی قے ہے

تھے تو گریاں ازل سے ہم راحیلؔ
ان دنوں کچھ بلند تر لے ہے

یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی

یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی
تیرے بعد اور جستجو نہ رہی

کھوئے کھوئے گزر گئے ہم لوگ
راستوں کی وہ آبرو نہ رہی

جانے کیا تھا کہ وحشتوں میں بھی
دل کو تسکین ایک گونہ رہی

چاک دامن کچھ اور بھی دیکھے
مدتوں خواہشِ رفو نہ رہی

آخرِ کار میں وہ میں نہ رہا
آخرِ کار تو وہ تو نہ رہی

دن گزرتے گئے، گزرتے گئے
زیست راحیلؔ تھی عدو، نہ رہی!

اس نے بھی جوگ لے لیا شاید

اس نے بھی جوگ لے لیا شاید
میں بھی زندہ ہی مر گیا شاید

تجھ سے مل کر بھی کچھ قلق سا ہے
میں بھٹکتا بہت رہا شاید

یہ نہیں ہے کہ وقت کٹ نہ سکا
اس طرح سے نہ کٹ سکا شاید

شہر کا شہر بندہ پرور ہے
میں اکیلا غریب تھا شاید

اب پڑا ہے فراق میں جینا
اب جیا بھی نہ جائے گا شاید

نہیں چارہ، نہیں دوا لیکن
کوئی چارہ، کوئی دوا شاید

جان پہچان ہو گئی تجھ سے
ورنہ کچھ بھی نہ جانتا شاید

ذہن راحیلؔ کا قیامت تھا
دل نے دیوانہ کر دیا شاید

جیتے جاتے ہیں، مرتے جاتے ہیں

جیتے جاتے ہیں، مرتے جاتے ہیں
رکتے رکتے گزرتے جاتے ہیں

آ، کبھی جھانک میری آنکھوں میں
اب تو دریا اترتے جاتے ہیں

کچھ توقع نہیں محبت سے
بس توکل پہ کرتے جاتے ہیں

بزمِ رنداں تو ہو گئی برخاست
اور کچھ جام بھرتے جاتے ہیں

بس ہے راحیلؔ شرم والوں پر
قتل کرتے ہیں، ڈرتے جاتے ہیں

دل زدہ شہر میں جب آئے گا

دل زدہ شہر میں جب آئے گا
جاں بلب، مہر بلب آئے گا

لو، مہکتی ہوئی یادیں آئیں
وہ تو جب آئے گا، تب آئے گا

صبحِ امروز ہوئی ہی ہو گی
یاد پھر وعدۂ شب آئے گا

کس قدر زود پشیمان ہے تو؟
تجھ پہ الزام ہی کب آئے گا؟

ابھی افکار میں ہیں رنگ بھرے
ابھی گفتار کا ڈھب آئے گا

ہم بھی صحرا کو چلے ہیں راحیلؔ
ہجر کا لطف تو اب آئے گا