میری کیفیت کچھ دنوں سے ایسی ہو گئی ہے کہ دانش مندانہ گفتگو اور فلسفہ طرازی کو بالکل جی نہیں چاہتا۔ایک عرصہ ان ’’مشاغل‘‘ میں گزارنے کے بعد ...

پیش لفظ

میری کیفیت کچھ دنوں سے ایسی ہو گئی ہے کہ دانش مندانہ گفتگو اور فلسفہ طرازی کو بالکل جی نہیں چاہتا۔ایک عرصہ ان ’’مشاغل‘‘ میں گزارنے کے بعد اب میں بالکل بیزار ہو گیا ہوں۔ میرے خیال میں یہ ایک منطقی نتیجہ ہے۔ ایسا ہوا ہے کیوں کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔
نیر مصطفی دورِ جدید کے روایتی نابغوں میں سے ایک ہے۔ چونکہ وہ ایک روایتی نابغہ ہے اس لیے اس نے میری کتاب چھپوانے کی قیمت پر مجھے مامور کیا ہے کہ میں اپنے ’’نظریۂ فن‘‘ پر روشنی ڈالوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے اور آپ کو باور کروا سکوں کہ اس قسم کی کاوشیں شاذونادر ہی ہمارے لیے کسی حقیقی فائدے کی حامل ہوتی ہیں۔
فن زندگی کا ہر وہ وظیفہ ہے جس کا حق ادا ہو جائے۔آپ شعر کہیے، کیرم کھیلیے ، خط لکھیے، دوڑیے، بال بنائیے، ہنسیے، تمباکو پیجیے، ٹائپ کیجیے یا سو جائیے، ہر کام کا کچھ نہ کچھ حق تو ہے۔ اور وہ حق یہ ہے کہ اسے ایسے کیجیے جیسے کیا جانا چاہیے۔ یعنی زندوں کا ہر کام کسی نہ کسی حد تک فن ہوتا ہے۔ اب مثلاً آپ کہیں گے کہ بھئی! سگرٹ پینا ہی نہیں چاہیے، اس کا حق ادا کرنا چہ معنی دارد؟ تو صاحب! سگرٹ نوشی آپ کا فن نہیں ہے۔ جن کا ہو گا، ان کے ہاں پھر اختلاف ہو گا کہ اسے کیسے ’’کیا جانا چاہیے۔‘‘ فائدہ اس اختلاف کا یہ ہے کہ ایک فن کے دو حقیقی فن کار کبھی ایک سے نہیں ہوتے۔ فن خود کو دہراتا نہیں۔
ارسطو کا نظریۂ نقل بھی مزے کی چیز ہے۔ ڈیڑھ دو سال پہلے اچھا خاصا میری سمجھ میں آ گیا تھا۔ آج کل نہیں آتا۔دیکھیے، نقل کے لیے ضروری ہے کہ ناقل اور منقول جداگانہ اور آزاد مظاہر ہوں، ورنہ نقل محال ہو جائے گی۔ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ آپ(خدا نخواستہ!) ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی نقل نہیں کر سکتے! ایک ہکلا دوسرے ہکلے کی نقل کیسے اتارے گا؟ اب اگر فن کار زندہ ہوتا ہے تو زندگی کی ’’نقل‘‘ چہ معنی دارد؟ دو باتیں ہو سکتی ہیں، اگر فن کار اپنی زندگی سے ہٹ کر زندگی کی کسی اور مخصوص حالت کی نقل کرتا ہے تو پھر فن کو اس آفاقیت کا حامل تو نہیں ہونا چاہیے جس کا وہ ہے۔اور اگر، ارسطو کے اپنے خیال کے مطابق، وہ زندگی کے اصل سانچوں یا اعیان کی نقل کرتا ہے تو کیا وہ خود ان کے زیرِ اثر نہیں ہوتا؟
پھر ’’تخلیقیت‘‘ کا مفروضہ ہمارے حلقوں میں بہت عام ہے۔اپنے پورے ادھورے پن کے ساتھ! یعنی فن کار خالق ہوتا ہے۔ بندہ پرور! اگر تخلیق اسی کا نام ہے کہ آپ کے کارنامے کے ڈانڈے نفسیاتی، معاشرتی، معاشی، سیاسی—ہمہ قسم عصری عوامل سے مل جائیں تو خالقِ کائنات خدا تو نہیں ہو سکتا۔کوئی تخلیق کار ہی ہو گا۔انسپائرڈ۔۔۔۔
آئن سٹائن نے ریاضی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کے اصول جہاں تک یقینی ہوتے ہیں، حقیقت کی جانب اشارہ نہیں کرتے اور جہاں تک حقیقت سے علاقہ رکھتے ہیں، یقینی نہیں ہوتے۔ یہ تناقض بنیادی طور پر فکر کے تمام شعبوں کی خاصیت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نامعلوم کا دائرہ (اگر دائرہ ہے ظالم!) ہمیشہ معلوم کے دائرے سے بسیط تر ہوتا ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ دوسرا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فکر اور لسان سماجی ارتقا کا نتیجہ ہیں۔ یہ دونوں ابلاغ کے آلات ہیں جس پر معاشرے کے قیام اور استحکام کی بنیاد ہے۔ غلطی ہماری یہ ہے کہ ہم انھیں خود زندگی کے لیے ناگزیر سمجھ لیں۔ زندگی تو بغیر سوچے، بولے، لکھے، دیکھے، سنے بھی اچھی خاصی گزاری جا سکتی ہے۔
دوسری طرف، آپ بہت کچھ ایسا سوچ سکتے ہیں اور لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں جس کا زندگی سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ فلسفے نے بہت دفعہ ایسا کیا ہے اور بد قسمتی سے آج کل فن بھی زیادہ تر یہی کر رہا ہے۔ فن کار سوچ رہے ہیں اور اظہار کے نت نئے راستوں کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اس قسم کی مساعی نے تہذیب کو بے انتہا فائدے پہنچائے ہیں۔ مگر یہ فن کاروں کا کام بہرحال نہیں ہے۔ میرے خیال میں انھیں صرف زندگی کو ایسے گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اگر وہ جنگل میں نہیں رہتے تو ابلاغ خود ہو جائے گا!
شاید میں بہت کچھ واضح نہیں کر سکا مگر میرا کام ہو گیا ہے۔اب ایک دو اور باتیں—میں ایک نہایت، نہایت کم مطالعہ شخص ہوں۔ اس کتا ب میں توارد کے امکانات روشن ہیں۔ لہٰذا سرقہ کے مدعیوں کی محنت کی پیشگی داد دیتا ہوں!دوسرے یہ کہ میرے مہربان نا مہربانوں کی طرح لاتعداد ہیں۔ اللہ سب کو بہت، بہت خوش رکھے۔اس کتاب کے سلسلے میں نیر مصطفی کے علاوہ حسنین شہزادؔ، وسیم حسن فائقؔ اور ملک زاہد حسین زاہدؔ صاحبان کی خصوصی اعانت میسر آئی، متشکرم!
گھر والوں کا شکریہ میں ادا نہیں کر سکتا۔ نہ کرنا چاہیے!
راحیلؔ فاروق
بابِ عمر۔ عبدالحکیم
(۱۰ جولائی، ۲۰۱۰ء)