Categories
غزلیات

اگر نالۂ من رسد تا بہ پرویں

نذرِ بابا

(والدِ مرحوم خالد فاروق کے لیے)

اگر نالۂ من رسد تا بہ پرویں
دلے را برآرم ندیمانِ دیریں

چو بودی دلِ بزمۂ خاورستاں
بیا! واژگوں گشت آں جامِ دوشیں

عنایت کرا کردۂ دلقِ عشقے
کجا ننگِ ہستی؟ کجا رنگِ تمکیں؟

اگر مرگ در بارگاہِ تو یابم
کفن ہم شود غیرتِ موجِ نسریں

شنیدم کہ راحیلؔ ہفوات گوئی
الا اے خدا جو کہ بودی صنم بیں!

Categories
غزلیات

زندگی زندگی کے درپے ہے

زندگی زندگی کے درپے ہے
اپنے زندوں کو دیکھنا، ہے ہے!

چیز خاصے کی عشق بھی ہے مگر
حسن کیسی کمال کی شے ہے!

ہجر میں آئے، وصل میں آئے
موت آئے گی، اس قدر طے ہے

اپنی تقدیر ہی نہیں ورنہ
دل ہے، ساقی ہے، جام ہے، مے ہے

جام ہائے شکستہ ہیں ہم لوگ
زندگی دیوتاؤں کی قے ہے

تھے تو گریاں ازل سے ہم راحیلؔ
ان دنوں کچھ بلند تر لے ہے

Categories
غزلیات

یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی

یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی
تیرے بعد اور جستجو نہ رہی

کھوئے کھوئے گزر گئے ہم لوگ
راستوں کی وہ آبرو نہ رہی

جانے کیا تھا کہ وحشتوں میں بھی
دل کو تسکین ایک گونہ رہی

چاک دامن کچھ اور بھی دیکھے
مدتوں خواہشِ رفو نہ رہی

آخرِ کار میں وہ میں نہ رہا
آخرِ کار تو وہ تو نہ رہی

دن گزرتے گئے، گزرتے گئے
زیست راحیلؔ تھی عدو، نہ رہی!

Categories
غزلیات

اس نے بھی جوگ لے لیا شاید

اس نے بھی جوگ لے لیا شاید
میں بھی زندہ ہی مر گیا شاید

تجھ سے مل کر بھی کچھ قلق سا ہے
میں بھٹکتا بہت رہا شاید

یہ نہیں ہے کہ وقت کٹ نہ سکا
اس طرح سے نہ کٹ سکا شاید

شہر کا شہر بندہ پرور ہے
میں اکیلا غریب تھا شاید

اب پڑا ہے فراق میں جینا
اب جیا بھی نہ جائے گا شاید

نہیں چارہ، نہیں دوا لیکن
کوئی چارہ، کوئی دوا شاید

جان پہچان ہو گئی تجھ سے
ورنہ کچھ بھی نہ جانتا شاید

ذہن راحیلؔ کا قیامت تھا
دل نے دیوانہ کر دیا شاید

Categories
غزلیات

جیتے جاتے ہیں، مرتے جاتے ہیں

جیتے جاتے ہیں، مرتے جاتے ہیں
رکتے رکتے گزرتے جاتے ہیں

آ، کبھی جھانک میری آنکھوں میں
اب تو دریا اترتے جاتے ہیں

کچھ توقع نہیں محبت سے
بس توکل پہ کرتے جاتے ہیں

بزمِ رنداں تو ہو گئی برخاست
اور کچھ جام بھرتے جاتے ہیں

بس ہے راحیلؔ شرم والوں پر
قتل کرتے ہیں، ڈرتے جاتے ہیں

Categories
غزلیات

دل زدہ شہر میں جب آئے گا

دل زدہ شہر میں جب آئے گا
جاں بلب، مہر بلب آئے گا

لو، مہکتی ہوئی یادیں آئیں
وہ تو جب آئے گا، تب آئے گا

صبحِ امروز ہوئی ہی ہو گی
یاد پھر وعدۂ شب آئے گا

کس قدر زود پشیمان ہے تو؟
تجھ پہ الزام ہی کب آئے گا؟

ابھی افکار میں ہیں رنگ بھرے
ابھی گفتار کا ڈھب آئے گا

ہم بھی صحرا کو چلے ہیں راحیلؔ
ہجر کا لطف تو اب آئے گا

Categories
غزلیات

لوگ تنہا ہوئے، مجھ سا کوئی تنہا نہ ہوا

لوگ تنہا ہوئے، مجھ سا کوئی تنہا نہ ہوا
بھری دنیا میں جیا اور گزارا نہ ہوا

دل کی دل ہی میں لیے وہ بھی گیا میری طرح
مجھ سے کچھ بھی نہ ہوا، اس سے بھی اتنا نہ ہوا؟

کس نے بیچی ہے انا چند نگاہوں کے عوض
کس سے پوچھوں مجھے کیوں صبر کا یارا نہ ہوا؟

ارے یہ تشنگیِ عشق تو ہے ہی بدنام!
کون مانے گا کہ وہ حسن بھی دریا نہ ہوا؟

خود میں وہ شخص زمانے کو لیے پھرتا تھا
گاہ دیوانہ بنا، گاہ شناسا نہ ہوا

بخدا حسرتِ دیدارِ مسیحا کے سوا
تیری محفل میں کسی دکھ کا مداوا نہ ہوا

دل خریدار کے ہاتھوں کی لکیروں میں تھا
ورنہ ایسا کبھی سستا کوئی سودا نہ ہوا

ہوسِ حسن کو راحیلؔ دعا دیتا ہوں
دل کہیں کا نہ رہا، پھر بھی کسی کا نہ ہوا

Categories
غزلیات

آپ کو آپ ملامت کی ہے

آپ کو آپ ملامت کی ہے
عشق ہے، بات بھی غیرت کی ہے!

پھر سے زندہ ہوئے لیلیٰ مجنوں
شہر میں دھوم حکایت کی ہے

اے مجھے صبر سکھانے والے
کیا کبھی تو نے محبت کی ہے؟

دیکھتا دل کی یہ حالت کوئی
کرنے والے نے قیامت کی ہے

چار دن آئے عدو پر اچھے
چار دن ہم نے مروت کی ہے

کچھ ہمارا بھی تو حق تھا راحیلؔ
آخرِ کار شکایت کی ہے

Categories
غزلیات

جو کیا سو بصد ملال کیا

جو کیا سو بصد ملال کیا
عشق آسان تھا، محال کیا

ہم نے سو بار مرتبہ کھویا
دل نے سو مرتبہ بحال کیا

میرے منعم بھی سوچتے ہوں گے
کہ بھکاری نے کیا سوال کیا

پوچھ مت آخری سواروں سے
راستہ کس نے پائمال کیا؟

کعبۂ دل میں خون ریزی کو
عشق نے حسن پر حلال کیا

مرنے والے تو مر گئے راحیلؔ
جینے والوں نے کیا کمال کیا؟

Categories
غزلیات

صید ہے اپنی ذات میاں

صید ہے اپنی ذات میاں
کون لگائے گھات میاں؟

بھول گیا میں اپنا آپ
غم کی کیا اوقات میاں؟

دن کا ہر کوئی محرم ہے
رات کی بھیدی رات میاں

دل کے پوچھتے ہو حالات
دل کے کیا حالات میاں؟

گلشن گلشن ویرانے
پھول نہ کوئی پات میاں

ایک گھٹا بھی کم تو نہ تھی
کیوں نہ ہوئی برسات میاں؟

کون کہے اور کون سنے؟
اتنی گہری بات میاں؟

ٹھوکر کھائی پھر راحیلؔ
دنیا کی سوغات میاں