بڑے بے نیاز کے نام / تھوڑی امید کے ساتھ

جو کیا سو بصد ملال کیا

جو کیا سو بصد ملال کیا
عشق آسان تھا، محال کیا

ہم نے سو بار مرتبہ کھویا
دل نے سو مرتبہ بحال کیا

میرے منعم بھی سوچتے ہوں گے
کہ بھکاری نے کیا سوال کیا

پوچھ مت آخری سواروں سے
راستہ کس نے پائمال کیا؟

کعبۂ دل میں خون ریزی کو
عشق نے حسن پر حلال کیا

مرنے والے تو مر گئے راحیلؔ
جینے والوں نے کیا کمال کیا؟