Categories
غزلیات

جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا

جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا
ریختہ دل ہے، اور بکھرتا جائے گا

جھوٹ نبھانے اس کے بس کا روگ نہیں
دیکھے بن ہی باتیں کرتا جائے گا

اس سے پوچھو جو ساقی کہلاتا ہے
میرا خالی جام نہ بھرتا جائے گا؟

اپنی دھول تو پہنچے گی منزل کو مگر
کون کہے، تب کیسے برتا جائے گا؟

پوج رہا ہے مرتے ماضی کو راحیلؔ
خود بھی رفتہ رفتہ مرتا جائے گا

Categories
غزلیات

مصحف مصحف ورق ورق تھا

مصحف مصحف ورق ورق تھا
ہر ایک سبق نیا سبق تھا

یہ کون تھے درس لینے والے؟
میرِ مکتب کا رنگ فق تھا

تھا، اے میرے خدا، کہاں تو؟
جب میں محوِ صدائے حق تھا

قاتل کے انتظار میں شب
تھیں آنکھیں بند، سینہ شق تھا

اجڑے ہوئے شہر دیکھتے تھے
بنجاروں کو کوئی قلق تھا

میرا صلہ اور ہو گا راحیلؔ
ِمیں کشتۂ  شرّ ما خلق تھا

Categories
غزلیات

بے وفا تھا نہ تھا، خدا جانے

بے وفا تھا نہ تھا، خدا جانے
ہم بہت دیر تک نہیں مانے

وہ تو، یادش بخیر، خوش ہی تھا
ہمیں دکھ دے گئے تھے یارانے

کون کیا تھا، کبھی پتا نہ چلا
چند اپنے تھے، چند بیگانے

کبھی مڑ کے نہ وقت نے دیکھا
کیا سے کیا ہو گئے ہیں ویرانے

میرے دل پر گزر گئی راحیلؔ
لوگ کہتے رہیں گے افسانے

Categories
غزلیات

ہم گئے ہار، لوگ جیت گئے

ہم گئے ہار، لوگ جیت گئے
اپنی اپنی نبھا کے ریت گئے

جنگلوں کو نکل گئے پاگل
گئے آپ، اور لے کے پیت گئے

آندھیاں چل پڑیں اندھیروں میں
دیپ بجھنے لگے تو میت گئے

کچھ کمی سی تو رہ گئی لیکن
روز و شب زندگی کے بیت گئے

کیا بیابان، کیا چمن راحیلؔ
من چلے گنگنا کے گیت گئے

Categories
غزلیات

خشک پھولوں کی باس لگتی ہے

خشک پھولوں کی باس لگتی ہے
زندگی بدحواس لگتی ہے

نکل آتا ہے آفتاب مگر
شب قرینِ قیاس لگتی ہے

ایک شکوہ رہا محبت سے
کہ بہت آس پاس لگتی ہے

تھی کبھی تنگ مفلسی ہم پر
اب تو اپنا لباس لگتی ہے

کہیں منزل نظر نہیں آتی
تب مسافر کو پیاس لگتی ہے

آئنہ دیکھ اے جفا کاری
تو بھی کچھ کچھ اداس لگتی ہے

یوں تو کچھ بھی نہیں بچا راحیلؔ
بعض اوقات آس لگتی ہے

Categories
غزلیات

بت پرستوں میں خدا مستی ہے

بت پرستوں میں خدا مستی ہے
درد مہنگا ہے، دعا سستی ہے

شہرِ یاراں میں کوئی عام نہیں
ایک سے ایک بڑی ہستی ہے

جنتِ عشق بھی گھوم آیا ہوں
سربلندوں کے لیے پستی ہے

موت بے وقت نہ آئے گی تو کیوں
روز آنے پہ کمر کستی ہے؟

ہمی راحیلؔ ہوئے خانہ خراب
آج بھی اس کی گلی بستی ہے

Categories
غزلیات

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی
گیا ہے، توسنِ غم پر سوار تھا کوئی

فقیہِ شہر پھر آج ایک بت پہ چڑھ دوڑا
کسی غریب کا پروردگار تھا کوئی

بہت مذاق اڑاتا رہا محبت کا
ستم ظریف کے بھی دل پہ بار تھا کوئی

رہا لطائفِ غیبی کے دم قدم سے بسا
دیارِ عشق عجب ہی دیار تھا کوئی

نصیب حضرتِ انساں کا تھا وہی راحیلؔ
کسی کی گھات میں تھا، ہوشیار تھا کوئی

Categories
غزلیات

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست

کھنڈ گئی شاخچوں پہ زردی دوست
تو نے آنے میں دیر کر دی دوست

چاک سا ہو رہا ہے سینۂِ  شب
کس قدر بڑھ گئی ہے سردی دوست

تھے نہ دشوار فیصلے ایسے
تو نے مہلت ہی لمحہ بھر دی دوست

میں بتاتا ہوں کون ہے مجرم
وہ رہا چرخِ لاجوردی دوست

تا بہ ملکِ فنا رسد راحیلؔ
تو بیابان می نوردی دوست

Categories
غزلیات

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا
وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا

جستجو دشت میں سرگرداں تھی
جانِ عالم کسی محفل میں تھا

آج پہنچا ہے گریبان پہ ہاتھ
کل ابھی دامنِ سائل میں تھا

اوس پڑ جائے نہ ارمانوں پر
کچھ نیا تارے کی جھلمل میں تھا

لے اڑی دل کو خلش پھر کوئی
میں ابھی لذتِ حاصل میں تھا

تو نے اے دوست! زمانہ دیکھا
کچھ نیا بھی کسی بسمل میں تھا؟

ایک دعویٰ تو ہمیں تھا راحیلؔ
ایک سودا سرِ قاتل میں تھا

Categories
غزلیات

شہر میں شور مچ گیا ہو گا

شہر میں شور مچ گیا ہو گا
ورنہ بولا تو سچ گیا ہو گا

میں بھی حرفِ غلط ہی تھا کوئی
لکھتے لکھتے کھرچ گیا ہو گا

اُس میں ایسا ہے خاص کیا اے دل؟
تیری آنکھوں میں جچ گیا ہو گا

خوار گلشن میں ہو گا جو کوئی
خوشبوؤں میں نہ رچ گیا ہو گا؟

کوئی کوئی کہیں کہیں راحیلؔ
ہو گا، قسمت سے بچ گیا ہو گا